*نرتوپہ ویلفئیر سوسائٹی*
*صاف پانی بورنگ پروجیکٹ*
*www.nartopawelfare.com*
*پانی کا کنواں صدقہ جاریہ*
*موسمِ گرما کی آمد آمد ہے ، ایسے میں انسان کو پیاس شدت سے لگتی ہے ، اس موقع سے بلا لحاظِ مذہب وملت کے بہت ساری ہمدرد ، بہی خواہ ، رفاہی اور عوامی خدمات پر ایقان رکھنے والے ، مخلوقِ خدا کی خدمت کی شوقین وشیدا مختلف مقامات اور بازاروں ، چوراہوں اور گلی نکڑوں پر پانی پلانے کانظم کرتے ہیں ، آبدار خانے قائم کرتے ہیں ،اس عمل کے تعلق سے ہمت افزائی کی جانی چاہئے ، اور لوگوں کو اس کی ترغیب دی جانی چاہئے ، اور یہ عمل نہایت ثواب اور فضیلت کا حامل ہے پھر کیوں کر رسولِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم اس کی ترغیب نہ دیتے ؟ اسلام جیسا انسانیت کابہی خواہ ، اور انسانیت کا پاسدار مذہب اس کی تعلیمات سے کیسے پہلو تہی کرتا؟* *چنانچہ رسول اللہ ﷺ کے ارشادات میں اسکی اہمیت وافادیت زوردیا گیا ہے ، یہ عمل اس کے بظاہر نہایت معمولی ہونے کے باوجود نہایت اہمیت کا حامل ہے میں نے شہر حیدرآباد میں دیکھا ہے بعض غیر مسلم تنظیموں کی طرف سے بھی بڑے پیمانے پر موسم گرما میں پانی پلانے کا نظم بڑے تزک واہتمام سے ہوتا ہے ۔ہم تو اس نبی کی امتی ہیں جن کا ایقان یہ ہے کہ اللہ کے راہ میں خرچ کرنا در اصل یہ اللہ کے خزانے میں اپنے لئے بطورِ ذخیرۂ آخرت کے اکٹھا کرنا ہے ۔، شہر کے سلم گلیوں میں گرما کے موسم سے پانی کے لئے لوگ ترس جاتے ہیں ، ایسے جب کہ بورویل وغیرہ بھی سوکھ جاتے ہیں ، اس طرح کی سلم اور غریبوں سے معمور بستیوں میں بھی پانی کی ٹینکروں کے ذریعے آبرسانی کی خدمت میں شامل ہونا اور اپنے اور اپنے مرحومین کے ایصال ثواب کے لئے پانی کا نظم کرنا یہ مرحومین کے لئے ثواب جاریہ کا ذریعہ ہوسکتا ہے ۔یہ تو انسان ہیں،نبی کریم ﷺ کے ارشادات میں جانوروں تک کے لئے پانی کے نظم کرنے پر اجر وثواب اور جنت کی بشارتیں سنائی گئیں ہیں*
پانی پلانا ۔ ثوابِ جاریہ
پانی پلانی کو احادیث نبویہ میں صدقۂ جاریہ فرمایا گیاہے ، جس کا ثواب مرنے کے بعد بھی انسان کو ملتارہتا ہے ، کنویں ، بوریل، ٹانکی وغیرہ کی شکل میں غریبوں اور ناداروں کے لئے پانی کا نظم کرنا یہ مرحومین کے ایصال ثواب اور ان کے اجرِ آخرت اور صدقہ جاریہ ہوسکتا ہے*


